جمی ای جونز
نیو ہیون، کنیٹی کٹ: بہت سے افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کے لئے گیارہ ستمبر 2001 کے بھیانک جرم کے بعد پیش آنے والے واقعات کسی طرح بھی نئے نہیں ہیں۔ مجھ جیسے بہت سے لوگ جو 60 اور 70 کی دہائیوں کے دوران کالج میں شہری حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے، انہیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ یہ سب کچھ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس میں شدت پہلے کی نسبت زیادہ ہے۔
60 اور 70 کے عشروں میں ہمارے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے تھے اور اب ہماری ای میل کی چھان پھٹک کی جاتی ہے۔ اُس دور میں ہماری ایکٹِوسٹ تنظیموں کی جاسوسی کی جاتی تھی اور اب ہماری عبادت گاہیں نگرانی کی زد میں ہیں۔ چالیس سال پہلے حکومت کے تنخواہ دار گماشتے اور مخبر ہمیں پھانسنے کے چکر میں ہوتے تھے اور اب ان لوگوں کی ایک پوری نسل تندہی سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے۔
ان حالات کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیشتر افریقی امریکی مسلمان لیڈروں نے گیارہ ستمبر کے بعد کی دنیا میں امریکی حکومت کے اس رویّے پر تین طرح کا نقطہً نظر اپنایا ہے۔ پہلا نقطہً نظر ان افریقی نژاد امریکی مسلم رہنماؤں کے طریقۂ کار سے متعلق ہے جو سماجی انصاف کے حق میں جدوجہد کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد خوف اور خدشات کی بنیاد پر ہر طرف جس طرح کی نا انصافیاں کی جارہی ہیں اس وجہ سے انہوں نے مسلمانوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا شکار بننے والے تمام لوگوں کے لئے اپنی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔
مسلم امریکی سوسایٹی کی فریڈم فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرمہدی باری اس کی ایک اچھی مثال ہیں جنہوں نے اکیسویں صدی میں مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کے شہری حقوق کے حق میں مہم چلانے کے لئے عدمِ تشدد اور بین العقائد اتحادوں کے قیام کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کی ایک مثال مصر میں ایم اے ایس کی حالیہ انسانی حقوق کی تحریک ہے جس میں انہوں نے ملک میں وسیع تر سیاسی آزادی کے حصول کے لئے مصری سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے سامنے احتجاج کا طریقہ استعمال کیا ہے۔
دوسرا نقطہً نظر وہ ہے جس کے تحت افریقی امریکی مسلم رہنما مسلمانوں اور باقی امریکی کمیونٹی کے درمیان دانشورانہ سرحد پر کام کررہے ہیں۔ یہ لوگ دلیل اور اسلامی و سیکولر تحقیق کے حوالوں سے اس طرح بات کرتے ہیں جس سے پورے ملک میں فکر انگیز بحثوں کو مہمیز ملتی ہے۔ یہ لوگ گفتگو میں "تہذیبوں کے تصادم" جیسا طرز ِ عمل اپنانے کی بجائے ایسے موضوعات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔
انتصار ربّ اس نقطہً نظر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی پروگرام میں قانون اور پبلک افیئرز کی گریجویٹ ایسوسی ایٹ ہیں اور یہیں سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے ییل لاً سکول سے گریجویشن کی تھی۔ گزشتہ سال مکالمے کے فروغ کے بین الاقوامی ایسپن انسٹی ٹیوٹ میں " خواتین، اسلام اور مغرب" کے موضوع پر ہونے والے سمپوزیم میں ان کی شمولیت اس کا ثبوت ہے۔
تیسرے نقطہً نظر کے مطابق بعض افریقی امریکی مسلم رہنما ایسے داخلی معاملات پر توجہ دے رہے ہیں جو افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کی کمیونٹی پر منفی طور پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس حکمت ِ عملی کے پسِ پشُت یہ نظریہ کارفرما ہے کہ جب تک اس کمیونٹی کو متاثر کرنے والے بعض سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی مسائل کو حل نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ لوگ امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں اور اگر وسیع تر تناظرمیں دیکھا جائے تو پوری دنیا کی بہتری کے عمل میں بھرپور کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔
اس کی ایک اچھی مثال امام سراج وہاج کی قیادت میں چلنے والی تنظیم " الائنس آف نارتھ امریکہ" ہے۔ یہ تنظیم "صحت مند شادی کی سرگرمی " جیسے منصوبوں سے شہری کمیونیٹیز کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
افریقی نژاد امریکی مسلمانوں کو اس وقت جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان تینوں میں سے جو بھی نقطہً نظر اپنائیں، اس پر پورے انصاف کے ساتھ کاربند رہیں اور روزمرّہ زندگی میں حُب الوطنی اور قومی سلامتی کے نام پر اسلام کے خلاف خوف پیدا کرنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے، اس سے نہ گھبرائیں۔ قرآن میں کتنے واضح اور جامع طور پر بیان کیا گیا ہے:
اے ایمان والو، انصاف کے لئے گواہی دینے پر مضبوطی سے قائم ہو جاؤ اورکسی قوم کی دشمنی میں نا انصافی نہ کرو۔ انصاف کرو کیونکہ یہ تقوٰی کے نزدیک تر ہے۔ اور خدا سے ڈرو۔ اور خدا جو تم کرتے ہو اس سے خوب با خبر ہے (قرآن 5 : 8 )۔
###
٭ مسجد الاسلام نیو ہیون، کنیٹی کٹ کے صدر جمی ای جونز مین ہیٹن ویلے کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر اورمذاہب ِ عالم کے چیئر ہیں۔ یہ مضمون افریقی نژاد امریکیوں کے بارے میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کے لئے لکھی گئی تحریروں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اوراسے درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
http://www.commongroundnews.org/
0 comments:
Post a Comment